یحییٰ بن معین امام بخاری امام مسلم امام شافعی کے من گھڑت اور مزاحیہ خواب
جعلی خواب نامہ
یحییٰ بن معین اور امام مسلم نیشاپوری نے حدیث جمع کرنے کے حوالے سے سینکڑوں حوریں حاصل کی ہیں۔
یحییٰ بن معین
امام بخاری
امام مسلم
امام شافعی
کے من گھڑت اور مزاحیہ خواب
ابو حیان عادل سعید
جرح و تعدیل کے امام یحییٰ بن معین نے دس لاکھ روایتیں لکھیں لیکن صرف 300 حوریں موصول ہوئیں۔ دیکھیں صفحہ نمبر 113، بوستان المحدثین از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
آئیے جانتے ہیں کہ 1300 سال سے زائد عرصے سے مسلم دنیا میں کیا ہوتا رہا ہے۔
قرآن دشمنی میں ایرانی مجوسی اور ان کے رافضی ایجنٹوں نے لاکھوں جعلی اور من گھڑت احادیث ایجاد کیں انہوں نے 4 درجن سے زائد فضول ردی العلوم بھی ایجاد کیے۔میں صرف ان قرآن دشمن العلوم کو متعارف کروانا چاہتا ہوں جو مجوسی اور ان کے ایجنٹوں نے ایجاد کیا تھا۔
ان گپ شپ کو سمجھنے کے لیے اپنی آنکھیں اور دماغ بھی کھولیں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہمارا دماغ صرف کیپ اسٹینڈ کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
علم سوانح رجال، یہ بہت سر درد کا علم ہے، اس میں مختلف زمانوں کی مختلف مشہور شخصیات و افراد کی زندگی اور ان کے احوال سے بحث کی جاتی ہے، خاص طور سے یہ علم انبیا، خلفا، بادشاہوں، امرا، قائدین، مخلتف علوم کے ماہر علما، فقہا، ادبا، شعراء اور فلسفیوں وغیرہ کے طبقات کے جھوٹے سچے حالات سے بھرا ہوا ہے، اس علم میں خصوصا ان مشہور شخصیات کی ذاتی زندگی، ان کے نظریات اور معاشرہ اور حالات پر ان کے اثرات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ علم سوانح عام طور سے علم تاریخ کی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے۔ اس علم کا چلن اور رواج خاص طور سے مسلمانوں میں ہے مسلمانوں نے سوائے قرآن کریم کے ہر قسم کے فارسی، یونانی ، مجوسی ایرانی، علوم پر زیادہ توجہ دی ہے
تبصرہ: ان جھوٹے سچے روایات میں کوئی حقیقت نہیں ہے یہ سب تاریخ ہیں اور تاریخ صرف تاریخ ہے، اگر کوئی تاریخ کو حقیقت بنا کر پروپیگنڈہ کرتا ہے تو وہ دھوکے باز اور فراڈی ہے۔
اس علم کا چلن اور رواج خاص طور سے مسلمانوں میں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی مثبت کام نہیں ہے۔
مسلمانوں کے پاس ضائع کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت ہے۔
جرح و تعدیل کے امام یحییٰ بن معین نے دس لاکھ روایتیں لکھیں لیکن صرف 300 حوریں موصول ہوئیں۔ دیکھیں صفحہ نمبر 113، بوستان المحدثین از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
وحدثني ابو ايوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني، حدثنا ابو عامر يعنى العقدي، حدثنا رباح، عن قيس بن سعد، عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس، لا ياذن لحديثه ولا ينظر إليه.فقال: يا ابن عباس، مالي لا اراك تسمع لحديثي، احدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تسمع، فقال ابن عباس:" إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابتدرته ابصارنا، واصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب والذلول، لم ناخذ من الناس إلا ما نعرف . صحیح مسلم حدیث نمبر: 21
صحیح مسلم میں مجاہد سے روایت ہے کہ: «بشیر بن کعب عدوی سیدنا ابن عباس کے پاس آئے اور حدیث بیان کرنے لگے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے ابن عباس نے کان نہ رکھا ان کی طرف نہ دیکھا، بشیر بولے اے ابن عباس! تم کو کیا ہوا جو میری بات نہیں سنتے۔ میں حدیث بیان کرتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور تم نہیں سنتے۔ سیدنا ابن عباس نے کہا کہ ایک وہ وقت تھا جب ہم کسی شخص سے یہ سنتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا تو اسی وقت اس طرف دیکھتے اور کان اپنے لگا دیتے۔ پھر جب لوگ بری اور اچھی راہ چلنے لگے (یعنی غلط روایتیں شروع ہو گئیں) تو ہم لوگوں نے سننا چھوڑ دیا مگر جس حدیث کو ہم پہچانتے ہیں (اور ہم کو صحیح معلوم ہوتی ہے تو اس کو سن لیتے ہیں)
تبصرہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات 68 ہجری میں ہوئی، برائے مہربانی اس روایت کو غور سے پڑھیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات 68 ہجری سے پہلے جعلی حدیثیں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔
چنانچہ پیغمبر اسلام کی حدیثوں کو قبول و رد کے لیے ناقلین اور راویوں کے حالات کا یہ علم سوانح یا علم تراجم مسلسل جاری رہا، تاکہ ان اصولوں کی بنیاد پر احادیث و اخبار کو قبول و رد اور اس کی دینی حیثیت کا اعتبار و عدم اعتبار کا فیصلہ کیا جا سکے۔ لیکن یہ سب کچھ سو فیصد قابل اعتماد نہیں ہے۔
احادیث کے راویوں اور اس کے ناقلین کے احوال جاننے کی ضرورت و اہمیت پر علما و ائمہ کے بے شمار اقوال ہیں، راوی کی زندگی کے تفصیلی حالات خصوصا اس کے افعال و نظریات کا علم بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ راوی کی سوانح کے بنیادی مباحث میں سے: راوی کی تاریخ پیدائش، تحصیل علم کے حالات، اس دوران میں اس کے اساتذہ احادیث اور شیوخ، ان کی کیفیات و احوال، ان سے سماعت کردہ احادیث و آثار کی تعداد، پھر اس راوی کے تلامذہ کی تعداد، اس کے شیوخ میں ضعیف اور مجہول اساتذہ، اس کے علمی اسفار کے احوال، کتنی احادیث کی سماعت کی، کب اور کن سے کی، کیسے (کتابت، حفظ، سماعت یا فقط پیش کرنا وغیرہ) کی وغیرہ؟ لوگوں میں اس راوی کی مقبولیت، اس کے پاس تلامذہ اور حاضرین کی تعداد، نیز اس کے اوہام اور یا خامیوں وغیرہ کا علم، پھر اس راوی کے اخلاق، اس کی ذاتی زندگی کی مشغولیات و پیشہ وغیرہ کا علم، کیا وہ حدیثوں کو بیان کرنے کی اجرت لیتا تھا؟ احادیث کی اجازت میں وہ سخت تھا یا تساہل برتتا تھا جیسے ضروری مباحث شامل ہوتے ہیں۔
راویوں کی سوانح سے متعلق علم کی کئی شاخیں اور گوشے ہیں، اس تعلق سے کئی اور علوم بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس میں سے ایک اہم علم "اسناد کا علم" ہے، اس علم میں صرف مسلمانوں نے کام کیا ہے۔ اور "اصطلاحات حدیث کا علم" ہے۔ اسی طرح "راویوں کی جرح و تعدیل کا علم" ہے۔ "علل کا علم" ہے۔ وغیرہ۔
تبصرہ: دنیا کے تمام دانشوروں کا خیال ہے کہ مسلمان علماء کے پاس ان فضول گپ شپ کے لیے غیر معمولی وقت تھا ۔
نام نہاد احادیث کی بنیاد دیکھو کتنی کھوکھلی اور ضعیف ہے۔ لوگ ان جعلی احادیث کو جھوٹے خواب دکھا کر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment