توہین رسالت اور کیا ہوتی ہے؟
توہین رسالت اور کیا ہوتی ہے؟
متعہ کی احادیث
صحیح مسلم اور صحیح بخاری
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!
تحقیق و تبصرہ: ابو حیان سعید
کیا کسی نبی یا رسول نے پہلے شراب، زنا، سود اختیار کرنے کا حکم دیا؟ پھر ان چیزوں سے منع کیا !! نہیں بالکل نہیں، یہ گناہ خود لوگوں نے اپنائے تھے۔ میں نے انبیاء اور رسولوں کی تاریخ میں متعہ جیسی چیزیں کبھی نہیں پائی جو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو دی ہوں۔ مجھے تاریخ میں کبھی نہیں ملا۔ نہ تورات (تلمود) میں اور نہ اناجیل میں اس قسم کی حرکت ملتی ہے۔ مسلم تاریخ میں صرف بخاری، مسلم وغیرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگایا کہ آپ نے متعہ کو اختیار کرنے کا حکم دیا اور پھر 15 دن کے بعد متعہ کو حرام قرار دیا۔
مسلم نے یہ بھی کہا ہے کہ متعہ کی پیروی امیر المومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی ہوئی تھی پھر امیر المومنین عمر بن الخطاب کے دور میں بھی متعہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بخاری و مسلم وغیرہ کے الزامات کے بارے میں علمائے دین کے کیا خیالات ہیں؟
صحیح مسلم # 3413
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا : خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا يَعْنِي : مُتْعَةَ النِّسَاءِ " .
سیدنا جابر اور سلمہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی نکلا اور اس نے پکارا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی ہے۔
صحیح مسلم # 3416
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ ، وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ ہم متعہ کرتے تھے یعنی عورتوں سے کئی دن کے لئے ایک مٹھی کھجور اور آٹا دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے عمرو بن حریث کے قصہ میں منع کیا۔
صحیح مسلم # 3417
حدثنا حدثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عَنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ ، اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ ، فقَالَ جَابِرٌ : فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا .
ابونضرہ نے کہا کہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے دونوں متعوں (یعنی حج تمتع اور عورتوں کے متعہ) میں اختلاف کیا ہے۔ سو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دونوں متعے کیے ہیں پھر ان دونوں سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا اس کے بعد ہم نے ان دونوں کو نہیں کیا.
صحیح مسلم # 3418
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حدثنا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا "
ایاس بن سلمہ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام اوطاس میں تین بار معتہ کی رخصت دی اور پھر منع فرما دی
صحیح مسلم # 3419
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا ، وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا ، فقَالَت : مَا تُعْطِي ؟ فَقُلْتُ رِدَائِي ، وَقَالَ صَاحِبِي : رِدَائِي ، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي ، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا ، وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا ، ثُمَّ قَالَت : أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي ، فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا " .
سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کی اجازت دی تو میں اور ایک شخص دونوں نکلے اور قبیلہ بنی عامر کی ایک عورت کو دیکھا کہ گویا ایک جوان اونٹنی تھی دراز گردن صراحی نما۔ سو ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا۔ وہ بولی: مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میری چادر حاضر ہے اور میرے رفیق نے کہا: میری چادر حاضر ہے اور میرے رفیق کی چادر میری چادر سے اچھی تھی مگر میں اس کی نسبت جوان تھا۔ جب وہ میرے رفیق کی چادر دیکھتی تو اس کو پسند آتی اور جب مجھے دیکھتی تو میں اس کو پسند آتا، پھر اس نے کہا کہ تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے۔ اور میں اس کے پاس تین روز رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ایسی عورت ہو کہ اس سے متعہ کیا ہو تو اسے چھوڑ دے۔“
صحیح مسلم # 3420
حدثنا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حدثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ : فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ ، فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ ، فَبُرْدِي خَلَقٌ ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا ، فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ ، فَقُلْنَا : هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا ؟ قَالَت : وَمَاذَا تَبْذُلَانِ ؟ فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا ، فقَالَ : إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ ، وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ ، فَتَقُولُ : بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا ، فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ربیع بن سبرہ نے کہا کہ ان کے باپ نے فتح مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کیا اور کہا کہ ہم مکہ میں پندرہ یعنی رات اور دن ملا کر تیس دن ٹھہرے۔ اور ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی۔ اور میں اور ایک شخص میری قوم کا دونوں نکلے اور میں اس سے خوبصورتی میں زیادہ تھا۔ اور وہ بدصورتی کے قریب تھا۔ اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی۔ اور میری چادر پرانی تھی اور میرے ابن عم کی چادر نئی اور تازہ تھی۔ یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے نیچے یا اوپر کی جانب میں پہنچے تو ہم کو ایک پٹہیا ملی جیسے جوان اونٹنی ہوتی ہے صراحی دار گردن یعنی جوان خوبصورت عورت۔ سو ہم نے اس سے کہا: کیا تجھے رغبت ہے کہ ہم میں سے کوئی تجھ سے متعہ کرے؟ اس نے کہا: تم لوگ کیا دو گے؟ تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر پھیلائی اور وہ دونوں کی طرف دیکھنے لگی اور میرا رفیق اس کو دیکھتا تھا اور اس کے سر سے سرین تک گھورتا تھا۔ اور اس نے کہا کہ ان کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور تازہ ہے اور وہ کہتی تھی کہ اس کی چادر میں کچھ مضائقہ نہیں۔ تین بار یا دو بار یہی گفتگو ہوئی۔ غرض میں نے اس سے متعہ کیا۔ اور میں اس کے پاس سے نہیں نکلا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام کیا۔
میرا سوال ہے کہ یہ متعہ کس عورت سے منایا گیا؟ مسلم خاتون یا غیر مسلم خاتون؟
صحیح مسلم # 3424
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ ، ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَانَا عَنْهَ
عبدالملک بن ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کے دادا سبرہ سے روایت کی کہ سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حکم دیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کا فتح مکہ کے سال میں جب ہم مکہ میں داخل ہوئے پھر نہ نکلے ہم وہاں سے یہاں تک کہ منع کر دیا ہم کو متعہ سے
صحیح مسلم # 3425
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، حَتَّى وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَى نَفْسِهَا ، وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ ، فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي ، وَتَرَى بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي ، فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ، ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَى صَاحِبِي ، فَكُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ .و
سیدنا ربیع بن سبرہ اپنے باپ سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سال فتح مکہ میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا عورتوں سے متعہ کرنے کا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں اور میرا ایک دوست قبیلہ بنی سلیم سے دونوں نکلے یہاں تک کہ ہم نے ایک جوان عورت کو پایا قبیلہ بنی عامر سے کہ گویا ایک جوان اونٹنی تھی اور پیغام دیا ہم نے اس کو متعہ کا اور پیش کیا اس پر اپنی چادروں کو اور وہ دیکھنے لگی اور مجھے خوبصورت دیکھتی تھی میرے رفیق سے زیادہ اور میرے رفیق کی چادر میری چادر اچھی دیکھتی تھی اور اس نے اپنے دل میں ایک گھڑی مشورہ کیا پھر مجھے اس نے پسند کیا میرے رفیق کے سوا اور متعہ کی عورتیں ہمارے لوگوں کے پاس تین دن تک رہیں پھر حکم کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چھوڑ دینے کا۔
صحیح مسلم # 3429
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَامَ بِمَكَّةَ ، فقَالَ : إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ ، فقَالَ : إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ : فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ ، قَالَ : ابْنُ شِهَابٍ ، فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ : أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عَنْدَ رَجُلٍ ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ ، فَأَمَرَهُ بِهَا ، فقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ : مَهْلًا ، قَالَ : مَا هِيَ ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ : إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ ، وَالدَّمِ ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ : أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ، ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ ، يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا جَالِسٌ .
ابن شہاب زہری نے کہا کہ خبر دی مجھ کو عروہ بن زبیر نے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے مکہ میں، یعنی خطبہ پڑھنے کو اور کہا کہ بعض لوگوں کے دل االلہ تعالیٰ نے اندھے کر دیئے ہیں جیسے ان کی آنکھیں اوندھی کر دی ہیں (یہ اشارہ کیا انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کہ وہ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور ان کو متعہ کا نسخ نہیں پہنچا تھا اس لئے جواز کا فتویٰ دیتے تھے پھر انہوں نے رجوع کیا جب نسخ معلوم ہو گیا) کہ فتویٰ دیتے ہیں متعہ کے جواز کا اور وہ طعن کرتے تھے ایک شخص پر (یعنی انہی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر) اتنے میں پکارا ان کو ایک شخص نے (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) اور کہا کہ تم کم فہم، بے ادب، نادان ہو اور قسم ہے میری جان کی کہ متعہ کیا جاتا تھا زمانہ میں امام المتقین کے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ سو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ تم اپنے کو آزما دیکھو کہ اللہ کی قسم! اگر تم نے متعہ کیا (یعنی متعہ سے صحبت کی) تو بیشک میں تم کو تمہارے ہی پتھروں سے ماروں گا (یعنی جیسے زانی کو مارتے ہیں) ابن شہاب نے کہا کہ خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے مجھے خبر دی کہ میں ایک شخص کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے متعہ کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے حکم دیا متعہ کا، سو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا ٹھہرو انہوں نے کہا کیوں؟ اللہ کی قسم! میں کیا ہے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔ تب ابن ابی عمرہ نے کہا کہ اول اسلام میں جائز تھا اس کے لئے جو نہایت درجہ کا بے قرار ہو جیسے مضطر کو مردہ اور خون اور سور کا گوشت وغیرہ حلال ہے، پھر اللہ پاک نے اپنے دین کو مضبوط کیا اور اس سے منع فرمایا۔ ابن شہاب زہری نے کہا اور خبر دی مجھ کو ربیع بن سبرہ جہنی نے کہ ان کے باپ نے کہا کہ میں نے متعہ کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے مبارک میں بنی عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں پر، پھر منع کیا ہم کو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یعنی متعہ سے۔ کہا ابن شہاب نے اور سنا میں نے ربیع بن سبرہ سے کہ وہ روایت کرتے تھے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔
سنن نسائی # 3370
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ: مَا تُعْطِينِي ؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا، وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي، فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَتَمَتَّعُ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا .
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص ( دونوں ) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، ( لیکن ) میں اس سے زیادہ جوان ( تگڑا ) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی ( اس کی طرف لپکتی ) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔
توہین رسالت اور کیا ہوتی ہے؟
صحيح مسلم # 3407
عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے اور جب جاتی ہے تو شیطان کی صورت میں جاتی ہے …
تبصرہ: میرا ماننا ہے کہ مسلم نیشاپوری کی کچھ خواتین نے توہین کی تھی، اسی لیے اس نے یہ غلیظ بات بیان کی۔
حدثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً ، فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ ، وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً لَهَا ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فقَالَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ " ،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عورت پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہ ایک چمڑے کو دباغت دینے کے لئے مل رہی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت ان سے پوری کی اور پھر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف نکلے اور فرمایا: ”عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے اور جب جاتی ہے تو شیطان کی صورت میں جاتی ہے، پھر جب کوئی کسی عورت کو دیکھے تو اس کو چاہیئے کہ اپنی بیوی کے پاس آئے یعنی صحبت کرے، اس عمل سے اس کے دل کا خیال جاتا رہے گا۔“
Comments
Post a Comment