قریش سے بارہ خلفاء کی کہانی گھڑنے کے پیچھے شیطانی خیالات ؟
12 Caliphs from Quresh
قریش سے بارہ خلفاء
کی من گھڑت جعلی احادیث
قریش سے بارہ خلفاء کی کہانی گھڑنے کے پیچھے شیطانی خیالات ؟
قریش سے بارہ خلفاء کے بارے میں تمام احادیث کے اسناد میں درجن سے زائد رافضی شیطان راوی چھپے
.ہوئے ہیں.
جو اپنے شیطانی عقائد بیان کرتے ہیں اور تقریبا چودہ صدیوں سے مسلمانوں کی سوچ کو تباہ کر رہے ہیں۔
تمام سلفی اہل حدیث اور دیوبندیوں وغیرہ نے ان مجوسی رافضی شیطانوں کو غلیظ عقائد پھیلانے میں مدد کی۔
تحقیق و تبصرہ: ابو حیان سعید
قریش سے بارہ خلفاء کے بارے میں جعلی احادیث "صحیح بخاری" اور "صحیح مسلم" کے ساتھ ساتھ
"سنن ابوداؤد" جیسی اہم کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ تمام احادیث جعلی ہیں ، جو ایرانی مجوسی اور
رافضی نے بنائی ہیں۔
سب سے پہلے نام نہاد "صحیح بخاری" میں من گھڑت جعلی احادیث
دوسرے حصے میں صحاح ستہ "صحیح مسلم" سے مختلف ابواب میں کچھ جعلی حکایتیں ہیں۔
تیسرے حصے میں ایک بہت اہم کتاب "سنن ابوداؤد" کی جعلی روایتیں ہیں۔
ان احادیث کو گھڑنے کے پیچھے شیطانی "امامت کا نظریہ" قائم کرنا تھا۔ رافضی قریش سے بارہ خلیفہ کو شیعت کے بارہ اماموں کے طور پر پھیلاتے ہیں۔
تمام سلفی اہل حدیث ، دیوبندی قریش کے بارہ خلفاء کی ان جعلی اور مضحکہ خیز احادیث کی پیروی کرتے ہیں۔
ان جعلی حدیثوں میں بنیادی خرابیاں اسناد ، متن اور درایت میں ہیں۔
اسناد میں رافضی راوی ہیں ، جنہوں نے مجوسی اور یہودیوں سے جعلی کہانیاں لیں اور مسلمانوں کے عقائد کو تباہ کیا۔
البخاري # 7139
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ ، فَغَضِبَ ، فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا تُوثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ ،تَابَعَهُ نُعَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ میں قریش کے ایک وفد کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قبیلہ قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر غصہ ہوئے اور کھڑے ہو کر اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق کی پھر فرمایا، امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی حدیث بیان کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہے اور اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، یہ تم میں سے جاہل لوگ ہیں۔ پس تم ایسے خیالات سے بچتے رہو جو تمہیں گمراہ کر دیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ امر ( خلافت ) قریش میں رہے گا۔ کوئی بھی ان سے اگر دشمنی کرے گا تو اللہ اسے رسوا کر دے گا لیکن اس وقت تک جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ اس روایت کی متابعت نعیم نے ابن مبارک سے کی ہے، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے اور ان سے محمد بن جبیر نے
البخاري # 7140
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ .
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ امر خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو شخص بھی باقی رہیں گے۔“
البخاري # 7222
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، فَقَالَ أَبِي ، إِنَّهُ قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میری امت میں ) بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی، بعد میں میرے والد نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ وہ سب کے سب قریش خاندان سے ہوں گے۔
البخاري # 7223
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، فَقَالَ أَبِي ، إِنَّهُ قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میری امت میں ) بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی، بعد میں میرے والد نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ وہ سب کے سب قریش خاندان سے ہوں گے۔
صحيح مسلم # 4704
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ
حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تک ( ان ) لوگوں میں دو انسان بھی باقی رہیں گے ، امرِ حکومت قریش میں ہو گ
صحيح مسلم # 4708
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ الطَّحَّانَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمِ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً»، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
حصین ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اپنے والد ( حضرت سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اس امر کا خاتمہ اس وقت تک نہ ہو گا جب تک اس میں بارہ جانشیں نہ گزریں ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا ہے : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
صحيح مسلم # 4709
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا»، ثُمَّ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُ أَبِي: مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
عبدالملک بن عمیر نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں کی امارت جاری رہے گی یہاں تک کہ بارہ اشخاص ان کے والی بنیں گے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
صحيح مسلم # 4711
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ، أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الْأَسْلَمِيُّ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: : عُصَيْبَةٌ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الْأَبْيَضَ، بَيْتَ كِسْرَى «أَوْ» آلِ كِسْرَى وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِذَا أَعْطَى اللهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ
حاتم بن اسماعیل نے مہاجر بن مسمار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس خط بھیجا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ اس جمعہ کے دن جس کی شام کو حضرت ( ماعز ) اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " قیامت تک یہ دین قائم رہے گا ، یا جب تک مسلمانوں پر بارہ خلفاء حکومت کریں گے جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کسریٰ یا آل کسریٰ کا سفید محل فتح کرے گی ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے قریب کچھ کذاب ظاہر ہوں گے ، ان سے بچنا ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی اچھی چیز دے تو وہ اپنے اور اپنے گھر والوں سے آغاز کرے ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا : " میں حوض پر تمہارا پیش رَو ہوں گا
سنن ابوداؤد # 4279
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ، فَسَمِعْتُ كَلَامًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَفْهَمْهُ، قُلْتُ لِأَبِي مَا يَقُولُ ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ .
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے
سنن ابوداؤد # 4280
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً، قَالَ: فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا، ثُمَّ قَالَ: كَلِمَةً خَفِيفَةً، قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ مَا قَالَ: قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سب قریش میں سے ہوں گے ۔
سنن ابوداؤد # 4281
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا ؟ قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ.
اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر قتل ہو گا ۔
Comments
Post a Comment