کوفہ، بغداد، بصرہ ... ہر ایک کی جیب میں ہزاروں جعلی روایتیں تھیں۔ کیا کوفہ، بصرہ، بغداد 'میٹرکس' فلم جیسی جگہ ہے؟
ہر شخص ایک سپر کمپیوٹر تھا جس کی جیب میں ہزاروں جعلی روایتیں تھیں۔ کیا کوفہ، بصرہ، بغداد 'میٹرکس' فلم جیسی جگہ ہے؟
دوسری صدی ہجری میں
کوفہ، بغداد، بصرہ
رافضیت کے اڈے تھے۔
تاریخ کی کتابوں سے میں نے کچھ روایات نقل کی ہیں۔
ہمیں تاریخ کو صرف تاریخ کے طور پر لینا چاہیے۔
علی المدینی (161~234 ھ )
انہیں جرح و تعدیل کا امام سمجھا جاتا ہے . بصرہ میں پیدا ہوئے۔
بعض اہل تذکرہ نے لکھا ہے کہ ان کا انتقال بصرہ ہی میں ہوا مگر خطیب بغدادی اور ابن ندیم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا انتقال سامراء میں ہوا
یہ علی المدینی بخاری کے استاد تھے، بخاری نے ان سے 287 روایتیں نقل کی ہیں۔
حوالہ : تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، جلد # 11، صفحہ # 272 – 273
جب تک یہ بغداد میں رہتے، سنت کا چرچا بڑھ جاتا اور شیعیت کا زور گھٹ جاتا اور جب کچھ دنوں کے لیے یہ بصرہ چلے جاتے تویہ رافضی فتنہ پھرزور پکڑلیتا، یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: كان علي بن المديني إذا قدم علينا اظهر السنة وإذاذهب إلى البصرة اظهر التشيع۔ ترجمہ:علی بن مدینی جب بغداد آجاتے توسنت کا چرچا ہوجاتا تھا اور جب وہ بصرہ چلے جاتے توشیعیت زور پکڑجاتی.
حوالہ : تهذيب التهذيب: جلد # 7 صفحہ # 309
تبصرہ : ( غور کیجئے اس وقت بغداد اور بصرہ رافضیت کا مرکز تھے۔ یعنی سنی ازم اور شیعہ ازم کا یہ کھیل دوسری صدی ہجری میں پنگ پانگ جیسا تھا۔ )
ابن مدینی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک لاکھ مرویات جن میں تیس ہزار ایک راوی عباد بن صہیب سے مروی تھیں ترک کردیں، اس لیے کہ یہ قابل اعتبار نہیں تھیں۔
حوالہ : تهذيب التهذيب: جلد # 7 صفحہ # 354
تبصرہ: المدینی کے پاس جعلی اور من گھڑت روایت جمع کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت تھا
ایک لاکھ جعلی احادیث رکھنے والے ایک ایک شخص کے بارے میں سوچیں کہ اس وقت کتنے محدثین تھے؟
بغداد اس وقت علم وفن کا سب سے بڑا مرکز تھا؛ مگروہاں جب ابن المدینی پہنچ جاتے توایک نیا حلقہ درس قائم ہوجاتا اور تمام ائمہ پروانہ وار ان کے گرد جمع ہوجاتے اور جب ان کے درمیان کوئی مختلف فیہ مسئلہ آجاتا اور فیصلہ نہ ہوپاتا توپھر اس میں ابن مدینی اپنی رائے دیتے تھے
حوالہ : تهذيب التهذيب: جلد # 7 صفحہ # 308
تبصرہ: اس وقت لوگوں نے گھی میں چوہا، کوے کا گوشت، ہاتھی کی دم، پیشاب اور پاخانے اور منی کے سینکڑوں جعلی مسائل پیدا کیے تھے۔ یہ تمام محدثین و فقیہ ان فرضی مسائل کو حل کرنے میں دن رات مصروف تھے۔ کتنے مضحکہ خیز دن تھے۔
ابن مدینی کے اساتذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چند کے نام یہ ہیں۔ ان کے والد عبد اللہ بن جعفر مدینی، حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید القطان، عبد الرحمن بن مہدی، ابو داؤد طیالسی، ابن علیہ، سعید بن عامر الضبعی وغیرہ۔
بخاریؒ ان کے تلامذہ میں ہیں، ان کا قول ہے کہ میں نے علی بن المدینی کے علاوہ کسی کے سامنے اپنے کوحقیر نہیں سمجھا۔ ان کے انتقال کے بعد ایک بار کسی نے امام بخاری سے پوچھا کہ آپ کے دل میں کوئی خواہش باقی ہے؟ بولے ہاں! ایک خواہش ہے، وہ یہ ہے کہ ابن مدینی زندہ ہوتے اور میں عراق جاکر ان کی صحبت میں بیٹھتا۔ ابن ماجہؒ اور نسائیؒ نے ان سے بالواسطہ روایتیں کی ہیں، امام نسائی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کوعلم حدیث ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔
حوالہ : تهذيب التهذيب: جلد # 7 صفحہ # 352-351
یحییٰ بن سعید القطان ( 120~198 ہجری )
فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے کہ فن رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحی بن سعید القطان ہیں۔ امام احمد بن حنبل کا قول ہے "میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔"
یحییٰ بن سعید سے بخاری نے 354 روایتیں اور مسلم نیشاپوری نے 307 روایتیں لی ہیں۔ وہ بخاری اور نیشاپوری کے دادا استاذ ہیں۔
بصرہ آبائی وطن تھا اور وہیں سنہ 120 ھ میں ان کی ولادت ہوئی۔ یحییٰ بن سعید القطان نے جس زمانہ میں آنکھ کھولی اس وقت مملکتِ اسلام کا ہرقصبہ اور ہرقریہ قال قال الرسول کی آواز سے گونچ رہا تھا. جن محدثین سے انہوں نے استفادہ کیا تھا ان کی فہرست کافی طویل ہے، چند نام یہ ہیں: امام مالک، امام اوزاعی، امام شعبہ، سفیان ثوری، ابن ابی عروبہ، یحییٰ بن سعید الانصاری تابعی، ہشام بن عروہ، امام اعمش، مسعربن کدام، سفیان بن عیینہ، اور سلیمان، اعمش وغیرہ امام نووی نے لکھا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے پچاس ایسے شیوخ حدیث سے سماع کیا تھا جوسفیان ثوری رحمہ اللہ جیسے محدث روزگار کے اساتذہ میں تھے.
حوالہ : (تہذیب الاسماء: جلد # 2 صفحہ # 154 ) , (تهذيب التهذيب: جلد # 11 صفحہ # 216)
علم حدیث ان کا خاص فن تھا اور اس میں ان کا مرتبہ امام کا تھا، ارباب تذکرہ لکھتے ہیں کہ عراق میں علم حدیث کا عام رواج ان ہی کی ذات سے ہوا۔ ائمہ حدیث کے یہاں ان کی مرویات کا جومرتبہ تھا، ا کا صحیح اندازہ ان راویوں سے ہوسکتا ہے جوان کے بارے میں انہوں نے ظاہر کی ہیں، مشہور محدث علی بن المدینی کہتے تھے کہ ہمارے معاصرین میں تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے بدءشعور سے علم حدیث کی طرف توجہ کی اور اس سے زندگی بھرلپٹے رہے؛ یہاں تک کہ وہ خود مسند تحدیث پرفائز ہوگئے، ان تین آدمیوں میں سب سے پہلا نام انہوں نے یحییٰ بن سعید کا لیا۔ عبدالرحمن بن مہدی جوان کے معاصر اور علم وفضل میں ان سے کم ترنہ تھے! انہوں نے اپنے مجموعۂ حدیث میں دوہزار حدیثیں یحییٰ بن سعید کی سند سے داخل کرلی تھیں جنھیں وہ ان کی زندگی ہی میں روات کرتے تھے۔ ابنِ مہدی جیسے یگانۂ روزگار کا ان کی ز۔دگی ہی میں ان سے روایت کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے، امام نووی نے لکھا ہے کہ ابن مہدی نے ان کے واسطہ سے تیس ہزار روایتیں لکھیں، یعنی لکھی توانہوں نے تیس ہزار تھیں؛ مگرروایت صرف دوہزار کی کرتے تھے؛ اگرکسی حدیث کے تذکرہ میں یہ ذکر ملے کہ ان کوکئی لاکھ حدیثیں یاد تھیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اتنے ارشادات نبوی یاد تھے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اتنی روایتیں یاسلسلہ بیان یاد تھا، ائمہ ان تمام سلسلہ سنت کواس لیے یاد کرتے تھے کہ سب کوسامنے رکھ کرکسی حدیث کے بارے میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے، مثلاً ایک ہی حدیث کے متعدد راوی ہوتے ہیں ان میں ایک ناقص روایت کرتا ہے، دوسرا کامل، ایک مفصل روایت کرتا ہے اور دوسرا مجمل، اب دونوں کوسامنے رکھنے کے بعد فیصلہ آسان ہوتا ہے کہ کون سی روایت زیادہ صحیح اور قابل قبول ہے، روایتوں کی کثرتِ تعداد دیکھ کربعض بے سوادوں کواحادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موجودہ ذخیرہ کے بارے میں شبہ ہونے لگتا ہے کہ آخر کار اتنا بڑا ذخیرہ حدیث کہاں سے آگیا؛ مگریہ ان کی کم علمی ہے کہ وہ روایت اور حدیث میں فرق نہیں کرتے، روایت اس سلسلہ بیان کوکہتے ہیں جوراوی حدیث کے سند کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے بیان کرتا ہے، اس لیے بسااوقات ایک ہی حدیث کے لیے متعدد سلسلۂ بیان ہوتے ہیں، اس لیے روایات کی کثرت کوحدیث کی کثرت پرقیاس کرنا غلطی ہے، یحییٰ بن سعید کویہ شرف واعزاز کچھ توان کی فطری ذہانت واستعداد کی وجہ سے ملا تھا؛ لیکن اس کا بڑا سبب خود ان کی ذاتی جدوجہد ہے، حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کوعشق تھا، اس کے حصول کے لیئے انہوں نے جومحنت اور کوشش کی اس کی مثال کم ملے گی، اوپر ذکر آچکا ہے کہ وہ صرف امام شعبہ کی خدمت میں بیس برس تک حدیث کا سماع کرتے رہے، وہ بھی کس اہتمام کے ساتھ، خود ان کی زبانی اس کی تفصیل سنیئے، فرماتے ہیں: کامل بیس برس تک میں امام شعبہ رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر رہا اور روزانہ زیادہ سے زیادہ تیرہ حدیثیں ان سے سماع کرکے لوٹتا تھا، غور کیجئے کہ ابن سعید جیسے ذہین وذکی آدمی کا روزانہ صرف تیرہ حدیثوں کا سماع کرنا بلاوجہ نہیں تھا، اس کی
وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی تھی کہ وہ جوکچھ پڑھتے تھے، اس پرپورے طور پرغوروخوض کرتے اور اس سے معافی کا استنباط کرتے تھے، محض حصولِ تبرک کے لیے وہ حدیثیں نہیں سنتے تھے؛ اسی بناء پرحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ تمام ائمہ حدیث روایت حدیث میں ان کوحجت سمجھتے تھے، ائمہ حدیث کا یہ مقولہ ضرب المثل ہے کہ جوشخص یحییٰ بن سعید کی روایات کوچھوڑدے گا ہم اس کوچھوڑ دیں گے۔
حوالہ : (تہذیب التہذیب: جلد # 11 صفحہ # 200 )' (تاریخ بغداد: جلد # 11 صفحہ # 137 ) (تہذیب الاسماء: جلد # 2 صفحہ # 55 )
تبصرہ : اس قسم کے بیکار لوگوں کو فنڈز کون دے رہا تھا.!! دن رات سب نے من گھڑت اور جعلی روایت لکھی۔
علم حدیث میں درک پیدا کرنے کے لیے ہزاروں حدیثوں کے الفاظ اور سینکڑوں راویوں کے حالات پرنظر رکھنی پڑتی ہے، اس لیے جب تک کوئی شخص غیرمعمولی قوتِ حافظہ کا مالک نہ ہو، فنِ حدیث میں غیرمعمولی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا، نیز اس کے پاس نہ گھر ہو ، نہ بیوی، نہ بچے، نہ کوئی کام، تو وہ محدث بن سکے گا۔ یوں توعام ائمہ حدیث کوخدا نے اس نعمت سے نوازا تھا؛ مگربعض ائمہ اس اعتبار سے ضرب المثل تھے، ان ہی میں یحییٰ بن سعید بھی ہیں، عموماً محدثین کا دستور تھا کہ جن احادیث کودرس میں طلبہ کے سامنے بیان کرنا ہوتا تھا وہ پہلے سے لکھ لیا کرتے تھے؛ تاکہ غلطی نہ ہو؛ مگریحییٰ بن سعید کواپنے حافظہ پراتنا اعتماد تھا کہ وہ بڑی سے بڑی حدیث زبانی سنادیا کرتے تھے، ایک بار سلیمان بن اشعث نے امام احمد سے پوچھا کہ کیا یحییٰ آپ کوزبانی روایتیں سناتے تھے، فرمایا کہ ہاں! ہم نے ان کے پاس کبھی کتاب نہیں دیکھی، عام طور پروہ اپنے حافظے سے روایت کرتے تھے؛ یہاں تک کہ وہ طویل طویل روایتیں جوہم کتابوں میں لکھ لیا کرتے تھے وہ ان کوبے تکلف سنادیا کرتے تھے. ایک بار ان کے استاذ امام ثوری نے غالباً امتحان کی غرض سے ایک روایت کا سلسلہ سند قصداً ذرامجمل بیان کیا، یحییٰ نے سنا توفوراً بولے، اس روایت میں یہ اجمال ہے، امام ثوری یہ سن کرحیران رہ گئے اور کہا کہ میں نے تمہارے جیسا فن رجال کا جاننے والا نہیں دیکھا، تم سے کوئی غلطی پوشیدہ نہیں رہتی اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک راوی محمد بن سالم جواپنے نام سے معروف تھے، ان کی کنیت ابوسہل اہلِ علم میں زیادہ معروف نہیں تھی، امام ثوری رحمہ اللہ نے روایت کرتے وقت نام کے بجائے ان کی کنیت کا ذکر کیا، خیال یہ تھا کہ یحییٰ کوراوی کی کنیت کا علم نہ ہوگا اور وہ اسے کوئی نئی روایت سمجھیں گے؛ لیکن امام ثوری کی یہ توقع صحیح ثابت نہیں ہوئی، یحییٰ نے سنتے ہی فرمایا کہ ابوسہل تومحمد بن سالم ہیں، اس سلسلہ میں امام احمد بن حنبل کے متعدد اقوال تذکروں میں ملتے ہیں، ایک بار انہوں نے فرمایا کہ یحییٰ بن سعید حددرجہ قوی الحافظہ اور واقعی محدث تھے، ان کا ایک قول ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید جیسا آدمی نہیں دیکھا، ان پرتثبت فی الحدیث ختم ہے۔
حوالہ : (تہذیب الاسماء: جلد # 2 صفحہ # 55)
تبصرہ: ایسا لگتا ہے کہ یحییٰ بن سعید اس دور کا ایک سپر کمپیوٹر تھا جس کے پاس کئی ہزار پینٹا بائٹ میموری تھی، لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے یادداشت کے لیے کشتہ جات اور کون کون سی خوراک لی۔
ائمہ حدیث نے تدوین حدیث میں رواۃ کی جرح وتعدیل میں بیکار محنت سے کام لیا ہے، اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی؛ مگرپھربھی وہ انسان تھے اس لیے ان سے بھی بعض تسامحات ہوئے ہیں اور ان پران کی دوسرے ہم عصر یابعد کے محدثین نے گرفت کی ہے؛ چنانچہ بڑے بڑے ائمہ کے تذکرہ میں جہاں ان کے محاس واوصاف کا تذکرہ ملے گا وہیں ان پرجرح وتنقید بھی ملے گی، یعنی اس بات کی تفصیل ملے گی کہ ان سے روایتِ حدیث میں کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں؛ یحییٰ بن سعید کے تذکرہ میں ان کے محدثانہ محاسن کی تفصیل توبہت ملتی ہے؛ مگران کی کسی مخصوص غلطی کا ذکر نہیں ملتا، صرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ایک قول ملتا ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے متعدد احادیث کے بیان کرنے میں غلطی کی ہے؟ مگرغلطی سے کون بچا ہے؟۔ اس کے ساتھ یہ فرمانا کہ غلطی سے کون بچا ہے؟ بڑی اہمیت رکھتا ہے، مقصد یہ تھا کہ بڑے بڑے ائمہ سے روایت حدیث میں غلطی ہوتی ہے، اس لیے ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں؛ مگرامام احمد نے غلطیوں کی نشاندہی نہیں کی ہے۔
حوالہ : (تاریخ بغداد: جلد # 14 صفحہ # 110 )
تبصرہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت : ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کیا ہے، انہوں نے اس شخص کو جواب دیا کہ تم قرآن نہیں پڑھتے، سیرت رسول ' قرآن ' میں ہے.
عبدالرحمن بن مہدی ( 125 ~ 198 ھ )
انہیں جرح و تعدیل کا امام سمجھا جاتا ہے .
عبدالرحمن بن مہدی بصرہ میں پیدا ہوئے. عراق میں اس وقت دومقام کوفہ وبصرہ خاص طور سے جھوٹی حدیثیں گھڑنے کے مراکز بنے ہوئے تھے، کوفہ وبصرہ میں جہاں خود ساختہ روایتوں کے مراکز تھے، وہیں دوسری قوموں کے اختلاط سے غیردینی رحجانات اور غلط افکار بھی دین کے چشمہ صافی میں مختلفط ہورہے تھے، اس اختلاط سے جہاں بہت سے برے نتائج پیدا ہوئے۔ ، ان میں ایک مذہبی قصہ گوئی بھی ہے، اس قصہ گوئی کورواج دینے میں عام مجالس پندونصائح کا بھی بڑا ہاتھ تھا، اس وقت بصرہ میں امام حسن بصری کی مجالس پندونصائح کا بڑا چرچا تھا؛ مگروہ اس بارے میں انتہائی محتاط تھے، ان کے بعد یہ احتیاط باقی نہیں رہی اور اہل لوگوں کے ساتھ بہت سے نااہل بھی اس بزم کے مسند نشین بن گئے؛ چونکہ یہی دور دینی علوم اور خاص طور پرحدیث کی تدوین وتربیت کا بھی تھا؛ اس لیے بڑی آسانی سے یہ روایتیں ذخیرۂ تفسیر وحدیث میں داخل ہوگئیں، ابن مہدی نے آنکھ کھولی توبصرہ میں قصہ گوئی کا عام رواج ہوچکا تھا، چنانچہ ان کے علمی نشوونما کا آغاز قصہ گویوں کی صحبت ہی سے ہوا، ابوعامر عقدی کہتے ہیں کہ وہ قصاص کے پاس جایا کرتے تھے، ایک دن میں نے اُن سے کہا کہ ان قصہ گویوں کی صحبت سے تمہارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا، چنانچہ میری یہی نصیحت ان کوعلم حدیث کی طرف مائل کرنے کا سبب بن گئی؛ یعنی مدینہ منورہ پہنچے اور امام مالک رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں شریک ہو گئے.
تبصرہ: ہجرت کی پہلی صدی کے وسط میں کوفہ، بغداد، بصرہ وغیرہ روایتوں کے من گھڑت مراکز بن گئے؛ سنی ازم اور شیعہ مسلک کا پنگ پانگ گیم جاری ہے۔ اس منظر میں تمام محدثین اور جرح و تعدیل کے ماہرین پروان چڑھے۔ لاکھوں جعلی احادیث اِدھر اُدھر چل رہی تھیں، صبح آدمی قدری ہوا، دوپہر کو جہمی، شام کو رافضی، رات کو سنی، آدھی رات کو فلسفی ملحد ہو گیا، اس وقت کیسا آزاد معاشرہ تھا؟ ہر گلی، بازار، پارک میں قال قال کی بلند آوازیں گونج رہی تھیں، کیا منظر تھے…
عبدالرحمن بن مہدی نے قوتِ حافظہ بھی غیرمعمولی پایا تھا، تمام ائمہ حدیث نے ان کی قوتِ حافظہ کا اعتراف کیا ہے، اس کااندازہ عبداللہ کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار ابن مہدی نے بیس ہزار حدیثیں مجھے اپنے حافظہ سے املا کرائیں تھیں۔
تبصرہ: ابن مہدی نے اس شخص عبداللہ پر رحم کیا، ا س نے صرف 20 ہزار روایتیں لکھی . کوفہ، بغداد، بصرہ وغیرہ میں لاکھوں جعلی احادیث پنگ پونگ کی طرح اِدھر اُدھر چل رہی تھیں. ایسا لگتا ہے کہ کوفہ، بغداد، بصرہ وغیرہ میں خوش قسمتی سے ہر شخص ایک سپر کمپیوٹر تھا۔ تھا جس کے پاس کئی ہزار پینٹا بائٹ میموری تھی، لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے یادداشت کے لیے کون کون سی خوراک لی۔
ایسا لگتا ہے کہ خوش قسمتی سے ہر شخص ایک سپر کمپیوٹر تھا جس کی جیب میں ہزاروں جعلی روایتیں تھیں۔ کیا کوفہ، بصرہ، بغداد 'میٹرکس' فلم جیسی جگہ ہے؟
Comments
Post a Comment