حضورصلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین .. خاتم المرسلین میری آل اولاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان.....

 


حضورصلی اللہ علیہ وسلم 

خاتم النبین

خاتم المرسلین


جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی قسم کے مہدی یا کسی نبی کی آمد کو مانتا ہے

 

وہ منکر ختم النبوت ہے




میرے کزن  نے مجھے ختم نبوت کے بارے می

 ایک نامعلوم لکھاری کا آرٹیکل بھیجا ہے جو کہ بہت عمدہ ہے۔ جزاک اللہ۔


اس میں کچھ حقائق شامل کرنا چاہتا ہوں۔

القرآن کریم وحی الٰہی کا مکمل اختتام ہے ، اللہ نے قرآن کریم میں وحی الہی کو مکمل کیا۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام مکمل کر چکے تھے۔ رہنمائی کے لیے پوری کائنات میں قرآن کریم اور سنت نبوی موجود ہے۔

ہم سب مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضور نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔

میں جاننا چاہتا ہوں

تو مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی قسم کے مہدی یا نبی کی ضرورت کیوں ہے؟


حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کا کام چھوڑا تھا؟ جسے جناب مہدی مکمل کریں گے

جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی قسم کے مہدی یا کسی نبی کی آمد کو مانتا ہے وہ منکر ختم النبوت ہے۔

میں نے کئی بار کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی مہدی اور نہ کوئی نبی آئے گا۔

حضور ﷺ

خاتم النبین 

خاتم المرسلین


ہمیں مہدی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کے پاس القرآن الکریم کی تعلیم اور رہنمائی ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں ، ان کے بعد نہ کوئی مہدی آئے گا اور نہ ہی کوئی دوسرا نبی آئے گا۔

اب مجھے اس جواب کا اختتام کرنا ہے کہ  " مہدی امامت کے افسانے کا ایک کردار ہے۔ مہدی کی کہانی صرف افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور مہدی کے بارے میں احادیث جعلی اور من گھڑت ہیں۔ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی سنت کے بعد مہدی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں کسی نجات دہندہ کی ضرورت نہیں ہے۔"


آخری الفاظ میں دوبارہ کہنا چاہتا ہوں:

اللہ نے دین اسلام کو مکمل کیا اور رسول کریم نے بھی اپنا تمام کام مکمل کیا تو مسلمانوں کو کسی نجات دہندہ مہدی یا کسی اور نبی کی ضرورت کیوں ہے؟ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کو نہ کسی مہدی کی ضرورت ہے اور نہ ہی رسول کریم کے بعد کسی نبی کی۔ القرآن کریم اور رسول کریم کی سنت تمام انسانوں کے لیے کافی ہے اگر وہ اسے اپنی بہتری اور فلاح کے لیے سمجھیں۔

آخر میں میں اللہ سے دعا کرتا ہوں ، اللہ ہمیں فتنہ قرآن سے بچائے۔

 
حضورصلی اللہ علیہ وسلم   خاتم النبین .. خاتم المرسلین  میں '  میری آل اولاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر قربان

اب مضمون دوبارہ پڑھیں ....




جنگ یمامہ*


مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی  جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی

  اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔

خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں

  یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"

بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:

مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے

  درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"


صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ

  سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ

  خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔


13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو

  اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔

یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی

  نہ کبھی بعد میں لڑی"

اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد

  خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259

صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ  کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے

  ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔


اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی

  اہمیت معلوم نہ ہوئی۔


انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی

  جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم

میں مشہور تھے

اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:

اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں

  اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"

چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب

  وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور  اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم

  پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر

  و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔


عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں

  صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں

  میں آخری خطبہ دیا:

والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے

  بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست

  نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"


اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی

  اہمیت معلوم نہ ہوئی۔


وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا  جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت"  کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی

  دیواریں مثل قلعہ کے تھیں

کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا

  لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:

*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے

  اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں

  تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"*

اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر

  منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار

  کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں

  چھلانگ لگا دی

قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا

  یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا

ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور

  پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ

کو کاٹ کر رکھ دیا


*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ

تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر

  رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی

  ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔


کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم

  کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک

  مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک

  پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔


قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے

  پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ

  اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.

اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں

  اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن  خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو. آخر میں میری آپ سب  سے التماس ہے کہ  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی  اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں

  کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو

  آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا  اپنا کردار ادا کیجئے۔

انشااللہ تعالی

حضور ﷺ

خاتم النبین

خاتم المرسلین


کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر  جاگتے رھیں کیونکہ

اسی میں نجات ھے


کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ھم تیرے ھیں


یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.


Comments

Popular posts from this blog

Ghazwa e Hind , Fact or Fiction by Abu Hayyan Saeed

Occulatation of Prophet Essa AS by Abu Hayyan Saeed

Who are the actual Hadith Rejectors ? Abu Hayyan Saeed