What is the actual meanings of Zakat by Abu Hayyan Aadil Saeed

 

زکوٰۃ کے اصل معنی اور مفہوم کیا ہیں...؟


2.5 فیصد زکوٰۃ صرف مسلم

سرمایہ داروں کی منحوس خواہش ہے

.. وہ اپنا سرمایہ بچانا چاہتے ہیں

جو اللہ نے انہیں دیا تھا۔

 

2.5 فیصد زکوٰۃ کے متعلق تمام احادیث

جعلی اور من گھڑت ہیں۔ 


ابو حیان سعید




زکوٰۃ اسلامی نظام کی انسانی اقتصادی ترقی کا ایک لازمی حصہ ہے

 جس کی وجہ سے معاشرے کی ترقی، معاشرے کے اخلاقی کردار

اور معیشت میں اضافہ ہوتا ہے.... جہاں تک زکوٰۃ کے فنڈز کی تقسیم کا تعلق ہے،

یہ معاشرے کے غریب ترین گروہوں کے استعمال کے اخراجات کو پورا کرتا ہے۔

لیکن 2.5 فیصد زکوٰۃ زکوٰۃ کے اصل معنی کو پورا نہیں کرتی۔ 2.5 فیصد زکوٰۃ

صرف مسلمان سرمایہ داروں کی خواہشات کو پورا کرتی ہے۔

سال میں ایک بار ڈھائی فیصد زکوٰۃ اور اس کا نصاب سب جعلی

اور خود سے گھڑا ہوا  ہے-

زکواۃ کا معنیٰ اور مقصد ہے اپنے مال کو پاک کرنا

قرآن کریم کا حکم ہے

"وَيَسْــئَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ  ۗ  قُلِ الْعَفْوَ  ۗ  كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ" ہ

اے نبی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ: "ہم اللہ کی راہ میں کیسے خرچ کریں؟

کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو- اس طرح اللہ تمہارے لیے

صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو"

سورہ البقرہ، آیت 219

یعنی جو آپ کی اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اور جب بھی ہو

(روزانہ سے لے کر ہفتہ وار، ماہانہ جیسے بھی آمدنی کا سلسلہ ہو،

اس میں اپنی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو بھی زائد از ضرورت ہو

اللہ کی راہ میں خرچ کرو-

یاد رکھیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم یا گزر چکے انبیاء کرام یا کسی فرشتے،

انسان، جن وغیرہ کسی کے پاس بھی کوئی ذاتی طاقت، صفات یا اپنا ذاتی علم نہیں،

سب کا سب اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اس لئے وہ تمام ہستیاں قرآن کریم سے

سرِ مو انحراف یا اس میں اضافہ، کمی یا ترمیم نہ تو کر سکتے ہیں اور نہ ہی

ایسا سوچ سکتے ہیں، تو پھر آپ خود بتائیں کہ کوئی فقہ کا امام یا کوئی

نیم خواندہ مولوی کیسے اپنی طرف سے  زکواة کیلئے ڈھائی فیصد سالانہ کا نصاب

اور اس لئے کچھ تولے سونا یا چاندی کا نصاب اپنے سے مقرر کر سکتا ہے

جو کہ ان کے فقہ کے اماموں نے گھڑ رکھا ہے اور جس ڈھائی فیصد کا

قرآن کریم میں دور دور تک کوئی ذکر نہیں؟؟؟؟؟

اللہ کی کتاب القرآن اللہ تعالیٰ کی ہی عطا کردہ " عقل" اور شعور

کی روشنی میں سمجھیں اور اس پر عمل کریں


آئیے قرآن کریم میں بیان کردہ زکوٰۃ کی اصل تلاش کریں

جو ہمیں "تصریف آیات" کے اصول سے ملتی ہے۔




سورۃ البقرہ 2:3

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ

جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں  اور جو کچھ ہم نے

انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ بیان القرآن ڈاکٹر اسرار احمد


سورۃ البقرہ  2:215

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ

وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ

یہ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے

جو بھی تم خرچ کرو مال و اسباب میں سے تو والدین رشتے داروں

یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے (خرچ کرو) اور جو خیر بھی

تم کماؤ گے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ بیان القرآن ڈاکٹر اسرار احمد


سورۃ الانفال   8:1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے کمائے گئے اثاثے  کے بارے میں پوچھ

رہے ہیں آپ کہیے کہ کمائے گئے اثاثے  کل کے کل اللہ اور رسول ﷺ کے

ہیں پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے آپس کے معاملات درست کرو اور

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اگر تم مؤمن ہو



سورۃ الانفال  8:41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ

وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ

عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ


اور جان لو کہ جو بھی اثاثوں کے حاملین ہے اس کا خمس (پانچواں حصہ)

تو اللہ کے لیے رسول ﷺ کے لیے  قرابت داروں کے لیے ہے

اور یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے  اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر

اور اس شے پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن اور

اللہ ہر شے پر قادر ہے

اگر آپ "تصریف آیات" کے اصول پر عمل کریں تو آپ کو زکوٰۃ کے

بارے میں مرحلہ وار سمجھ آجائے گی۔






Comments

Popular posts from this blog

Ghazwa e Hind , Fact or Fiction by Abu Hayyan Saeed

Occulatation of Prophet Essa AS by Abu Hayyan Saeed

Who are the actual Hadith Rejectors ? Abu Hayyan Saeed