Legitimacy of Hadiths or Not ? Abu Hayyan Saeed

 احادیث کا شرعی جواز

احادیث کی روشنی میں

ابو حیان سعید


کیا پوچھ سکتے ہیں کہ ان احادیث کو رد کرنے اور دوسری صحاحِ ستہ کی احادیث کو شرف قبولیت بخشنے کا معیار کیا ہے ؟

کس نے یہ معیار مقرر کیا ہے ؟

اس کی بنیاد کیا ہے ؟

صرف موضوعات کی بنیاد پر یا راویان کے نسب حسب کیوجہ ہے۔؟

کیا صحاحِ ستہ کی بقایا احادیث کو کماحقہ تجزیہ کے بعد صحیح کا درجہ دے دیا ہے اس کے بعد کوئی معترض نہیں ہو گا؟

برائے مہربانی سوالات کو مد نظر رکھ کر جواب دینا۔


میرے محترم دوست حیدر ملک صاحب  نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں چند انتہائی اہم بنیادی سوالات پوچھے۔ جناب حیدر ملک کے تمام سوالات، میں جامع انداز میں مختصر جواب دینا چاہتا ہوں۔


میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جواز کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں اور احادیث سے ہی اس کی دلیل پیش کرنا چاہتا ہوں۔

لیکن میں یہ مانتا اور سمجھتا ہوں کہ احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی تاریخ ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ میرے دوست کو اس کے زیادہ تر سوالات کے جواب مل جائیں گے۔

آئیے پہلے شروع کرتے ہیں

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فیصلے کیسے ہوتے تھے..


تاریخ میں جھانکیں تو حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فیصلے کیسے ہوئے ….


سنن ترمذی #1327


حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَقْضِي ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ. قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَجْتَهِدُ رَأْيِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر ( اس کا حکم ) اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہ ہو تو؟“ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی ( اس کا حکم ) موجود نہ ہو تو؟“، معاذ نے کہا: ( تب ) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو  توفیق بخشی“۔


تبصرہ: یہ روایت "حدیث معاذ رضی اللہ عنہ" کے نام سے بہت مشہور ہے۔ حنفیوں کو یہ روایت بہت پسند ہے لیکن اہل حدیث سلفی نے اس روایت کو "ضعیف" کہہ کر رد کیا ہے، لیکن کیوں، اس روایت میں لفظ "أَجْتَهِدُ رَأْيِي" استعمال ہوا ہے۔ لفظ "أَجْتَهِدُ رَأْيِي"   ( رائے سے اجتہاد ) اہلحدیث سلفیوں کے نزدیک قابل نفرت ہے، اسی لیے ناصر الدین البانی اور حافظ زبیر علی زئی اسے ضعیف سمجھتے ہیں۔



سنن ابوداؤد # 3583

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّار .

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی ہوں ، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔



سنن ابوداؤد   #3585 

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا الْحَدِيث، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ   وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے 


تاریخ سے ایک صفحہ


امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (متوفی 40 ہجری) آپ کے پاس حدیث کا ایک نسخہ بھی تھا جس کا نام "صحیفہ علی" تھا۔

صحیح بخاری حدیث نمبر 111 

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيِّ : هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ : قُلْتُ ، فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ .

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوحجیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ   میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ( اور بھی ) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان  ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔


آئیے صحیح مسلم سے حدیث کے متعلق اندرونی شواہد دیکھتے ہیں۔


عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات 68 ہجری  میں ہوئی، برائے مہربانی اس روایت کو غور سے پڑھیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات   68 ہجری سے پہلے جعلی حدیثیں تیزی سے پھیل رہی تھیں  اور اصحاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعلی اور من گھڑت احادیث کو کیسے نظر انداز کیا؟

صحیح مسلم نمبر 21

حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : جَاءَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ، وَيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ.فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي ، أُحَدِّثُكَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْمَعُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّا كُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا ، وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ ، لَمْ نَأْخُذْ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ .

‏‏‏‏ مجاہد سے روایت ہے بشیر بن کعب عدوی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حدیث بیان کرنے لگے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کان نہ رکھا ان کی طرف نہ دیکھا ان کو۔ بشیر بولے اے ابن عباس! تم کو کیا ہوا جو میری بات نہیں سنتے۔ میں حدیث بیان کرتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور تم نہیں سنتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک وہ وقت تھا جب ہم کسی شخص سے یہ سنتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا تو اسی وقت اس طرف دیکھتے اور کان اپنے لگا دیتے۔ پھر جب لوگ بری اور اچھی راہ چلنے لگے (یعنی غلط روایتیں شروع ہو گئیں) تو ہم لوگوں نے سننا چھوڑ دیا مگر جس حدیث کو ہم پہچانتے ہیں (اور ہم کو صحیح معلوم ہوتی ہے تو اس کو سن لیتے ہیں)۔



امام بخاری کا دعویٰ

" میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی حدیث داخل نہیں کی ہے جو صحیح نہ ہو، مگر بہت سی صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں تا کہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ (تاریخ بغداد، ج 2 ص 8 – 9، تہذیب النووی ج 1، ص 74، طبقات السبکی ج 2 ص 7) بلکہ ایک اور موقع پر وہ اس کی تصریح بھی کرتے ہیں کہ “میں نے جو صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں۔” اور یہ کہ “مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں یاد ہیں۔” (شروط الائمۃ الخمسہ، ص 49 )


تبصرہ: میرے خیال میں امام بخاری اس زمانے کے سپر کمپیوٹر تھے یا وہ بادام بہت زیادہ کھاتے تھے۔ان سے جڑی مضحکہ خیز کہانیاں۔


 انکار حدیث کا آغاز کیسے اور کب ہوا؟


تاریخ میں ہم پڑھتے ہیں کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تھوڑی مقدار میں، خاص حالات میں ‘ لو پروفائل پر حدیثیں لکھی اور جمع کیں۔ ۔ یہ دلیل بھی درست ہے کہ حدیث کی تالیف تیسری صدی ہجری میں بہت زیادہ مقدار میں شروع ہوئی۔



ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا

جمع کردہ احادیث کا مجموعہ 

وہ ہجرت سے 19 سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں، وہ امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بیٹی تھیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا وہ واحد کنواری تھیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی

    بیوی اور قریبی ساتھی کی حیثیت سے ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم اور بصیرت حاصل کی جو کسی عورت نے حاصل نہیں کی۔ وہ تاریخ کی سب سے زیادہ سیکھنے والی مسلم فقیہہ تھیں۔ آپ کا انتقال 17 رمضان المبارک 57 ہجری کو ہوا اور بقیع قبرستان میں دفن ہوئیں۔

انہوں نے تقریباً 2200 احادیث بیان کیں جیسا کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے سنی۔

یہ بہت حیران کن بات ہے کہ بخاری نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صرف 741 احادیث لی ہیں اور 1250 سے زائد رد کی ہیں، دوسری طرف مسلم نیشا پوری نے ان سے 503 احادیث لی ہیں اور 1690 سے زائد روایتوں کو رد کیا ہے۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے  ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا  مخطوطہ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک معروف صحابی، جن کا نام عبداللہ بن عمرو بن العاص (متوفی 63 ہجری) ہے، نے ایک مخطوطہ تیار کیا تھا جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست روایت کی تھی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا مخطوطة "صحیفہ الصادقہ" کے نام سے مشہور ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد مجاہد ابن جبر، (21-103ھ) کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مخطوطہ دیکھا تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: یہ  الصادقہ  ہے اور اس میں وہ ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور اس میں میرے اور  پیغمبرکے  درمیان کوئی نہیں ہے۔

ابن سعد طبقہ الکبری دارالصدر  2/373

یہ "صحیفہ صادقہ" بعد میں ان کے پوتے "عمرو بن شعیب (متوفی 118ھ) کو منتقل ہوئی، اگرچہ یہ کتاب آج موجود نہیں ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا ہے کہ: "جب عمرو بن شعیب اپنے دادا سے اپنے والد کے ذریعے روایت کرتے ہیں تو یہ (اس) کتاب سے ہے۔" (تہذیب التہذیب 8/49

صحیفہ صادقہ میں حدیث کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے .متعدد محدثین نے بتایا ہے کہ صحیفہ صادقہ میں ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ روایتیں ہیں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے 5374 حدیث روایت کی ہے)   ڈاکٹر حمید اللہ نے بتایا کہ اس کتاب میں تقریباً 10000 (دس ہزار) احادیث ہیں۔  تاریخ حدیث از ڈاکٹر حمید اللہ، صفحہ نمبر 25 ‘ لیکن بعض نے اس میں تقریباً 700 روایات کا  بیان کیا ہے ، میں آخری بیان پر بحث کرتا ہوں۔

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً 700 روایتیں نقل کی ہیں۔ امام بخاری نے صرف 64 حدیثیں لی ہیں اور امام مسلم نے ان سے 56 احادیث لی ہیں .امام بخاری نے 636 احادیث کو رد کیا اور امام مسلم نے 646 احادیث کو رد کیا۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے صحابی رسول کریم  عبداللہ بن عمرو بن العاص (متوفی 63 ہجری) کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

امیرالمومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (متوفی 40 ہجری) آپ کے پاس حدیث کا ایک نسخہ تھا جس کا نام "صحیفہ علی" تھا۔

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوحجیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ   میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ( اور بھی ) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان  ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ ( بخاری#  111)

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے "صحیفہ علی رضی اللہ عنہ" میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے 586 احادیث روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے 95 احادیث لی ہیں جب کہ انہوں نے 491 حدیثوں کو رد کیا۔ امام مسلم نے 51 حدیثیں لی ہیں جب کہ انہوں نے 532 احادیث کو رد کیا۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے  امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ   (متوفی 40 ہجری)  کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کی روایات کی تالیفات

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (متوفی: 59ھ) کو روایت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔

تاریخ میں ہم پڑھتے، سنتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً 5374 احادیث روایت کی ہیں۔ یہ احادیث کی ایک بڑی تعداد تھی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  نے 3 سال کے اندر جمع کی تھی۔

 (جامع بیان العلم، حدیث 422 )

ایک پراسرار چیز جو مجھے احادیث کے ذخیرے کا اتنی بار مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتی ہے کہ امام بخاری نے ابوہریرہ سے 1004 احادیث لیں اور 4370 احادیث کو رد کیا۔ امام مسلم نے 1121 حدیثیں لیں اور 4253 حدیثیں رد کیں۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (متوفی: 59ھ)   کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

انس بن مالک رضی اللہ عنہ  کا مخطوطہ

انس بن مالک (متوفی 92ھ) کے پاس حدیث کا اپنا نسخہ تھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔

معبد بن ہلال تابعی کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو وہ ہمارے پاس ایک نسخہ لے کر آئے اور کہا میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تو میں نے اسے لکھا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا۔ (مستدرک الحاکم، حدیث 6452)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ  کم عمر صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حیات میں ہی احادیث کے ذاتی مجموعے بنانا شروع کیے تھے، لیکن بہت کم۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے 2286 احادیث روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے 792 احادیث لیں جب کہ انہوں نے 1490 حدیثوں کو رد کیا۔ امام مسلم نے 558 احادیث لیں جب کہ انہوں نے 1728 احادیث کو رد کیا۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے   انس بن مالک رضی اللہ عنہ (متوفی 92ھ) کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی کتب

ایک اور معروف صحابی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا زاد بھائی عبداللہ ابن عباس (متوفی 68 ہجری) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابن عباس کی عمر 13 سال تھی۔

موسیٰ بن عقبہ، تابعی (55-141 ہجری) کہتے ہیں: "کریب بن ابی مسلم (متوفی 98 ہجری سے پہلے)، ابن عباس کے آزاد کردہ غلام نے  ابن عباس کی کتابیں جو اونٹ کے بوجھ کے برابر تھیں  ہمارے سامنے رکھ دیا۔  (ابن سعد کی طبقات الکبریٰ 5/293)

موسیٰ بن عقبہ کا اونٹ کا بوجھ ایک مضحکہ خیز خیال ہے۔

سوال یہ ہے کہ ابن عباس نے اسٹیل پلیٹوں پر احادیث لکھیں؟

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے 1660 احادیث روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے 321 احادیث لیں جب کہ انہوں نے 1339 احادیث کو رد کیا۔ امام مسلم نے 594 احادیث لیں جب کہ انہوں نے 1066 احادیث کو رد کیا۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ (متوفی 92ھ) کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کا مخطوطہ

صحابی  رسول اللہ ، ایک پرجوش فوجی کمانڈر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  (متوفی 32 ہجری)، ان کا نسخہ  احادیث بھی تھا۔

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک کتاب تھی اور انہوں نے قسم کھائی کہ ’’بے شک میرے والد نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے‘‘۔ (399، جامع بیان العلم)

عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 848 روایتیں نقل کی ہیں . جیسا کہ میں نے حساب کیا کہ امام بخاری نے صرف 219 احادیث لی ہیں اور امام مسلم نے ان سے 133 احادیث لی ہیں .امام بخاری نے 629 احادیث کو رد کیا اور امام مسلم نے 715 احادیث کو رد کیا۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  (متوفی 32 ہجری) کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ  کی روایتیں

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً پانچ سال تھی۔ 

ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ (متوفی 74ھ) کا تعلق بنی خزرج سے ہے۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نوجوان ساتھی  تھے۔ ابو سعید خدری نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے 1170 احادیث روایت کی ہیں۔

ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے 1170 حدیثیں بیان کیں لیکن امام بخاری نے 180 حدیثیں لیں اور 990 احادیث کو رد کیا .امام مسلم نے 204 حدیثیں لیں اور 966 احادیث کو رد کیا


جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا مخطوطہ


جابر بن عبد اللہ رَضی اللہُ عنہُ ہجرت سے پندرہ سال پہلے مدنیہ میں پیدا ہوئے.جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ (متوفی 70ھ) نے حج کے متعلق احادیث روایت کی ہیں.

مجاہد، تابعی نے جابر کے نسخے سے روایت کی ہے۔ (طبقات الکبری 5/467)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً 1540 روایتیں نقل کی ہیں . جیسا کہ میں نے تلاش  کیا امام بخاری نے صرف 281 احادیث لی ہیں اور امام مسلم نے ان سے 445 احادیث لی ہیں . امام بخاری نے 1259 احادیث کو رد کیا ہے اور امام مسلم نے 1095 احادیث کو رد کیا ہے۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ (متوفی 70ھ)   کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، متوفی: (73 ) ہجری۔ آپ ہجرت سے 10 سال پہلے پیدا ہوئے اور چھوٹی عمر میں اپنے والد امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ ہجرت کر گئے۔ ان کے پاس حدیث کی ایک کتاب تھی۔

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 1630 حدیثیں روایت کیں۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  نے 1630 حدیثیں بیان کیں لیکن امام بخاری نے 81 حدیثیں لیں اور 1549 احادیث کو رد کیا .امام مسلم نے 32 حدیثیں لیں اور 1598 احادیث کو رد کیا۔

بخاری اور مسلم نیشاپوری نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  کی روایت کردہ احادیث رسول کا انکار کیوں کیا؟

آئیے بخاری اور مسلم نیشاپوری کے دو مشہور اساتذہ کی طرف آتے ہیں جن کے پاس مسند کہلانے والی روایت کا اپنا مجموعہ ہے

 اسحاق بن راہویہ 161 ~ 238ھ

اسحاق بن راہویہ کا  "مسند اسحاق بن راہویہ" کے نام سے حدیث کا اپنا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 2425 احادیث کا مجموعہ ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ اسحاق بن راہویہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صرف 543 حدیثیں لیں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہزاروں حدیثیں رد کیں، اسی طرح اسحاق بن راہویہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے 1272 حدیثیں لیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے 900 سے زائد احادیث کو رد کیا۔

دوسرے سرے پر ایک انتہائی خوفناک حالت یہ تھی کہ امام بخاری نے  اپنے استاد  اسحاق بن راہویہ صرف 51 احادیث لیں اور امام مسلم نے اپنے استاد اسحاق بن راہویہ سے 66 احادیث لیں، ان کی مسند میں 2425 احادیث ہیں، یعنی امام بخاری اور امام مسلم نے ہزاروں احادیث کو رد کیا ہے۔ ان کے استاد اسحاق بن راہویہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہزاروں حدیثوں کو رد کرتے ہیں۔

. ابوبکر عبداللہ بن زبیر الحمیدی 150 ~ 219 ہجری

علوم حدیث میں الحمیدی کے نام سے مشہور امام بخاری کے استاد تھے۔ ان کی کتاب "مسند الحمیدی" کے نام سے مشہور ہے۔

عبداللہ بن الزبیر الحمیدی ایک حافظ، فقیہ شافعی فقہ کے عالم اور الحرام کے شیخ تھے۔ انہوں نے خود امام شافعی کی مجلس میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سفیان بن عیینہ اور فضیل بن عیاض سے بھی احادیث کا مطالعہ کیا اور روایت کی۔  حدیث کی طرح فقہ میں بھی امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ امام شافعی سے اس فن میں خصوصی مہارت پیدا کی۔ جب امام شافعی مصر گئے تو حمیدی بھی ان کے ساتھ رہے اس طرح وہ امام صاحب کے بکثرت اجتہاد کے امین بن گئے۔ امام شافعی کی وفات کے بعد مصر سے پھر مکہ واپس آ گئے اور وہاں مفتی و فقیہ کی حیثیت سے بڑی شہرت پائی۔ امام شافعی فرماتے کہ میں نے الحمیدی سے بڑھ کرحافظ محدث نہیں دیکھا انہوں نے سفیان بن عیینہ سے 10000(دس ہزار) حدیثیں نقل کیں امام احمد حنبل فرماتے الحمیدی ہم میں امام ہیں .ان کے شاگردوں میں بخاری، نسائی، ترمذی، ابو زرعہ الرازی اور ابو حاتم الرازی شامل تھے۔ 219ھ میں مکہ میں وفات پائی

مسند الحمیدی میں 1360 احادیث ہیں۔ حمیدی نے اپنی کتاب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے 254 احادیث، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے 136 احادیث اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے 20 حدیثیں لی ہیں۔

الحمیدی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا , عبداللہ بن عمرو بن العاص  وغیرہ کی ہزاروں حدیثوں کو رد کیا۔

یہ بہت حیران کن بات ہے کہ بخاری نے اپنے استاد حمیدی سے صرف 75 روایتیں لیں اور اپنے استاد حمیدی کی 1250 روایتوں کا انکار کیا۔

امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث لکھنے اور روایت کرنے پر پابندی لگا دی۔

محمد حسین ہیکل 

کتاب "سیدنا عمر الفاروق"  

عمر ابن الخطاب نے ایک بار حدیث کو تحریر کرنے کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا ، انہوں نے اس خیال کی حوصلہ افزائی کی ، لیکن انھیں اس بات کا زیادہ یقین تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ایک دن انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا اور اعلان کیا: "میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات لکھنا چاہتا تھا ، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ خدا کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا جائے گا۔ لہذا میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ " لہذا انہوں نے اپنا خیال بدل لیا اور صوبوں میں مسلمانوں کو ہدایت دی: "جس کے پاس نبی (ص) کی کوئی روایت لکھی ہو وہ اسے ختم کردے۔" لہذا حدیث زبانی طور پر پھیلتی رہی اور اسے المامون کے عہد تک جمع نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ

 ذہبی نے بیان کیا:  امیر المومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب مرتب کی ، جس میں پیغمبر کی 500 روایات تھیں ، اور اسے اپنی بیٹی عائشہ کے حوالے کر دیا۔ اگلی صبح انہوں نے اسے واپس لیا اور اسے جلا دیا، یہ کہتے ہوئے کہ: "میں نے وہ لکھا ہے جو کچھ میں نے سمجھا تھا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس میں کچھ ایسی چیزیں ہوں جو نبی کے بیان کردہ الفاظ کے ساتھ مناسبت نہ رکھتی ہوں۔"   تذکرۃ الحفاظ جلد # 1، صفحہ # 9 ~ 11.  امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ  کے بارے میں ، ہم معمر بن راشد کے حوالے سے یہ سیکھتے ہیں کہ آپ کی خلافت کے دوران میں ، عمر نے ایک بار حدیث کی سند کے موضوع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ ہر ایک نے اس نظریہ کی تائید کی۔

اس کے باوجود  امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ ہچکچاتے رہے اور ہدایت اور روشنی کے لئے پورے مہینے خدا سے دعا کرتے رہے۔

آخر کار ،  یہ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، اور کہا: "پچھلی قوموں نے کتاب الہی کو نظرانداز کیا اور صرف انبیاء کے طرز عمل پر ہی توجہ مرکوز کی ، میں قرآن اور پیغمبر کی احادیث کے مابین الجھن کا امکان پیدا نہیں کرنا چاہتا۔

 ( طبقات ابن سعد) 

تبصرہ: تمام اہل حدیث سیلفی نے احادیث کے ذخیرے کو جلانے کے لیے  امیر المومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عمل کی روایت کو قبول نہیں کیا۔ الذہبی کی تذکرۃ الحفاظ ان روایات کے ماخذ کے طور پر۔ ان دونوں روایتوں کی طرف رجوع کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ذہبی نے ان دونوں کو ضعیف کیا ہے۔ وہ پہلے کے بارے میں تبصرہ کرتا ہے کہ یہ "مستند نہیں" ہے، اور یہ کہ دوسرا منقطع ہے۔ تذکرۃ الحفاظ جلد # 1، صفحہ # 9 ~ 11



صحیح مسلم نمبر 3004 میں حدیث کے بارے میں کیا ہے؟

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَكْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلاَ حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ - قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ - مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏

 ہداب بن خالد ازدی نے کہا:ہمیں ہمام نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی،انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مجھ سے(سنی ہوئی باتیں)مت لکھو،جس نے قرآن مجید(کے ساتھ اس کے علاوہ میری کوئی بات(حدیث) لکھی وہ اس کو مٹا دے،البتہ میری حدیث(یاد رکھ کرآگے) بیان کرو،اس میں کوئی حرج نہیں،اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھاوہ ا پنا ٹھکانا جہنم میں بنالے….  ۔ہمام نے کہا:میرا خیال ہے کہ انھوں(زید بن اسلم) نے کہا:جان بوجھ کر جھوٹ باندھاوہ ا پنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔" صحيح مسلم: كِتَابُ الزُّهْدِ

 وَالرَّقَائِقِ (بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ)

آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمام بن منبہ اس روایت میں اپنے تبصرے کس طرح زبردستی کرتے ہیں۔

قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " حمام نے لفظ مُتَعَمِّدًا کا اضافہ کیا۔"

کسی روایت میں اس قسم کی بدمعاشی عام ہے۔


لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ حدیث کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ حدیث کو رسول کریم کے دور کی تاریخ کے طور پر لیا جا سکتا ہے جو صرف لوگوں کے بیانات تھے۔

میں اپنے آخری الفاظ میں نتیجہ اخذ کرتا ہوں۔

جھوٹی حدیثیں گھڑنا اور الجرح و التعدیل دونوں شیطانی کام ہیں۔ 

ابتدائی مسلمان علماء کی اکثریت ان میں سے بصری، کوفی، بغدادی، شامی نے الجراح و التعدیل کے مفروضے کے اس وقت کو ضائع کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس قسم کے بے مقصد کاموں میں سینکڑوں لوگوں نے اپنا وقت الجرح والتعدیل میں خراب کیا اور لوگوں کا وقت بھی خراب کیا۔

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مسلمان علماء کے پاس خراب کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت ہے، وہ درست تھے کیونکہ بے حس مسلم علماء کو ایرانی مجوسی رافدیوں اور ملوک ڈکٹیٹروں یعنی عباسی ملوکوں کی سرپرستی حاصل تھی۔

وہ دن رات جھوٹی حدیثیں گھڑنے میں مصروف ہیں، ایک اور گروہ ان پر تنقید کرنے میں مصروف ہے، دونوں گروہ ملوکوں سے ملنے والی رقم اور اثاثوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عباسی ملوکوں نے ان کے لیے بہت بڑا فنڈ دیا۔

آج تک وہ مجوسی رافضیوں کے فنڈز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

یہ سب دھوکہ دہی کا شیطانی کاروبار ہے۔


حوالہ جات  

..کتابت و تدوین حدیث، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے قلم سے

از مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی، جامعہ دارالعلوم کراچی۔

..  کتابت حدیث از مولانا الحاج سید منّت اللہ رحمانی

.. کتابت حدیث، عہد صحابہ میں، از مفتی رفیع عثمانی

..محدثین اور ان کی کتابوں کا تعارف مولانا سلیم اللہ خان

..علم حدیث اور چند اہم محدثین از سلیم قدوائی

..تاریخ تدوین حدیث از مولانا عبدالرشید نعمانی

.. ابتدائی حدیث ادب میں مطالعہ , از ایم ایم اعظمی

..مسند الحمیدی از امام حمیدی

..انکار حدیث کے نتائج از مولانا سرفراز خان صفدر

..اس دور کا عظیم فتنہ  از مفتی ولی حسن ٹونکی

..تاریخ حدیث از ڈاکٹر حمید اللہ

..بستان المحدثین از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی

..مسند اسحاق بن راہویہ

حجیتِ حدیث اور انکارِ حدیث، از ڈاکٹر حافظ محمد زبیر، اسسٹنٹ پروفیسر، کامسیٹ، لاہور، پاکستان۔

…علوم اسلامیہ اور مستشرقین، ڈاکٹر محمد ثناء اللہ ندوی نے عربی سے ترجمہ کیا۔

.. الطبقات الکبری، ابن سعد ( 168 ~230  ہجری )

.. سير أعلام النبلاء - الذهبي (673 ~748 ہجری )

.. تهذيب الكمال في أسماء الرجال - المزي ( 654~742 ہجری)

.. ميزان الاعتدال في نقد الرجال- الذهبي (673 ~748 ہجری )

.. تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني (773 ~852 ہجری )

.. تهذيب التهذيب - ابن حجر (773 ~852 ہجری )

.. لسان الميزان - ابن حجر (773 ~852 ہجری )

.. ثقات ابن حبان  (270~354 ہجری )


.. الإصابة في تمييز الصحابة - ابن حجر(773 ~852 ہجری )


Comments

Popular posts from this blog

Ghazwa e Hind , Fact or Fiction by Abu Hayyan Saeed

Occulatation of Prophet Essa AS by Abu Hayyan Saeed

Who are the actual Hadith Rejectors ? Abu Hayyan Saeed